ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیا ریاستِ کرناٹک کے عربک اسکولوں کو گرانٹ ان ایڈ کوڈ دینا منسوخ کیا گیا ہے؟

کیا ریاستِ کرناٹک کے عربک اسکولوں کو گرانٹ ان ایڈ کوڈ دینا منسوخ کیا گیا ہے؟

Sat, 23 Sep 2017 21:22:58    S.O. News Service

بیدر،23؍ستمبر(ایس او نیوز؍محمدامین نوازبیدر) جناب محمد رفیع بھنڈاری وجئے پور نے سوال کیا ہے کہ کیا ریاستِ کرناٹک میں  عربک اسکولس گرانٹ ان ایڈ کوڈکو منسوخ کیا گیا ہے؟انہوں نے یہ سوال اس لئے اُٹھایا ہے کہ  ریاست میں1995-96ء سے قبل شروع کئے گئے سینکڑوں عربک اسکولوں میں ایک اسکول کو بھی گرانٹ ان ایڈ کے تحت شامل نہیں کیاگیا ہے۔

بتایاجاتاہے کہ دیوراج ارس کے دورہ اقتدار میں 1979ء میں مرحوم عزیز سیٹھ اور مرحوم ایس ایم یحیی کی تحریک اسکولوں کے قیام میں غیر معمولی دلچسپی کے سبب جب عربک اسکولس گرانٹ ان ایڈ کو ڈ رائج کیا گیا تو ریاست میں اس وقت ایک مُختصر مدت میں104عربک اسکولوں کو گرانٹ ان ایڈ کے تحت لا یا گیا ‘جبکہ آج بھی ریاست میں 300سے زائدان ایڈیڈ(غیر امدادی) عربک اسکولس کام کررہے ہیں ۔جوگذشتہ کئی سال سے گرانٹ ان ایڈ میں شامل ہونے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ ریاست میں عربک اسکولس گرانٹ ان ایڈ کوڈ کے تحت شروع کئے گئے مذکورہ اسکولس میں اساتذہ کرام کی وظیفہ یابی‘ اموات‘ پروموشن اور مستعفی کے ساتھ ساتھ عربک کلاس اپ گریڈ کئے جانے کے باوجود اسکولوں میں خالی آسامیوں کو تک پُر نہیں کیا گیا ہے۔اس طرح کے حالات میں پانچ گرانٹ ان ایڈ کیلئے عربک اسکول بند ہوگئے ہیں۔ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 2007ء سے گرانٹ ان ایڈ میں شامل کرنے کیلئے متعلقہ محکمہ میں درخواست داخل کی گئی تھیں۔ ایسے بے شمار درخواستوں کو مسترد کیا جارہا ہے‘جس کیلئے عربک اساتذہ کرام کو بنگلور کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا گیا ہے۔اور ان کے فائل کوواپس لوٹادیا جارہا ہے۔مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ریاست میں ایسے سینکڑوں دینی مدارس جو سابق حکومتوں کے مذکورہ رویہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت سے ان مدرسوں کو چلانے کیلئے اجازت تک لینا پسند نہیں کررہے ہیں ‘بلکہ متعلقہ ادارے والے عربک ٹیچرس کی تنخواہیں خود برداشت کرتے ہوئے انھیں چلارہے ہیں ۔اس طرح ریاست میں دو سو سے زائد عربک اسکول اور خود کی آمدنی سے شروع کئے گئے سینکڑوں عربک اسکول والے موجودہ ریاستی حکومت سے اُمید لگائے بیٹھے ہوئے ہیں کہ انھیں بھی گذشتہ ان ایڈ میں شامل کرلیا جائے گا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ریاست میں تین طرح کے عربک ادارے کام کررہے ہیں جس میں ایک عربک اسکولس جو آج ریاست میں گرانٹ ان ایڈ کوڈ جاری رہنے کے باوجود اس بات کا خدشہ لگا رہتا ہے تو کسی بھی وقت یہ بند ہوسکتے ہیں ۔جبکہ دوسرے نمبر پر ایس ڈی کیو ایم کے دینی مدارس آتے ہیں ‘جو مرکزی حکومت کی جانب سے خصوصی امداد برائے علم ریاضی اور سائنس مضامین کے تحت آتے ہیں ۔مگر اس گرانٹ کا بھی یہاں پہنچنا بند ہونے کی اطلاع ہے تاہم جدید عربک اسکول کے تحت امسال حال ہی میں گرانٹس منظور کئے گئے ہیں جسے حکومت کا ایک خوش آئند اقدام بتایا جارہا ہے۔کرناٹک عربک اسکول ٹیچرس اسو سی ایشن کے صدر مولانا عبدالجبار عمری جن کا تعلق شہر وجئے پور سے ہے نے بتایا کہ ریاست کے نصاب پر نظر ثانی مکمل ہوگئی ہے ۔ اور آئندہ سال نئی کتابیں موصول ہونے کی کی اُمید ہے جس کیلئے انھوں نے ریاستی وزیر برائے پرائمری تعلیم جناب تنویر سیٹھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر موصوف سے پُر زور مطالبہ کیا کہ ریاست میں جتنے بھی عربک مدارس گرانٹ ان ایڈ کوڈ میں شامل ہونے کیلئے درخواست داخل کی ہیں فوری طورپر ان درخواستوں کی سکروٹنی کراتے ہوئے اساتذہ کرام کی تنخواہ جاری کرنے کیلئے احکامات جاری کئے جائیں کیونکہ جب 1995-96سے قبل چلا جارہے ایس سی ‘ای سٹی اور جنرل زمرے کے ادارے والوں کو گرانٹ ان ایڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ مگر عربک اسکولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔


Share: